This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

Saturday, 15 November 2025

ایک دل کو لگنے والا اسلامی واقعہ

ایک دل کو لگنے والا اسلامی واقعہ

ایک دل کو لگنے والا اسلامی واقعہ

یہ واقعہ ایک نیک دل بوڑھی خاتون "امِ زینب" کا ہے… جو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اکیلی رہ گئی تھیں۔ ان کے گھر کا خرچ بہت مشکل سے چلتا تھا، مگر ان کے دل میں اللہ پر یقین پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔

ایک دن انہیں خبر ملی کہ ان کے محلے میں ایک غریب خاتون کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ امِ زینب کے پاس خود بھی کچھ نہیں تھا، مگر انہوں نے سوچا:
“اللہ کے نام پر دوں گی تو اللہ لوٹ کر دے گا!”

انہوں نے گھر میں موجود آخری آٹا نکالا، اس سے روٹیاں بنائیں اور غریب خاتون کے گھر بھیج دیں۔ واپس آکر وہ مسکرا کر کہنے لگیں:
“میرے رب کے خزانے کبھی کم نہیں ہوتے۔”

اسی شام دروازے پر دستک ہوئی۔ ایک نوجوان آیا اور بولا:
“امی! آپ کا پرانا کیس منظور ہوگیا ہے، حکومت کی طرف سے آپ کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا گیا ہے!”

امِ زینب کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے… وہ سجدے میں گر کر کہنے لگیں:
“یا رب! تو نے کبھی مجھے تنہا نہیں چھوڑا…”

اس رات ان کے گھر میں چولہا بھی جلا، اور اللہ کا شکر بھی۔ یہ سچ ہے کہ جو اللہ پر یقین رکھتا ہے… اللہ اس کے لیے ایسے دروازے بھی کھول دیتا ہے جو انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔

Friday, 14 November 2025

دل کی دعا___ایک سچا واقعہ


<h2>🌿 دل کی دعا — ایک سچا واقعہ</h2>



<p>یہ واقعہ ایک چھوٹے سے محلے کا ہے جہاں اسامہ نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ اسامہ کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور گھر کے حالات اچھے نہ تھے۔ روزانہ محنت کے بعد بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتا تھا۔</p>


<!-- Top Banner Ad 728×90 -->

<center style="margin:12px 0;">

<script type="text/javascript">

atOptions = {

'key' : '4bdf65dd012b33d9362bfe9a2ecc6ee6',

'format' : 'iframe',

'height' : 90,

'width' : 728,

'params' : {}

};

</script>

<script type="text/javascript" src="//www.highperformanceformat.com/4bdf65dd012b33d9362bfe9a2ecc6ee6/invoke.js"></script>

</center>


<p>ایک دن وہ بہت پریشان تھا۔ رات کو سو نہ سکا۔ دل نے کہا کہ شاید اسے سچی دعا کرنی چاہیے — اس نے اپنے دل کی گہرائی سے اللہ سے گزارش کی:  

<em>"یا اللہ! تو ہی کافی ہے، میرے لیے آسانی پیدا کر دے، میری کمائی میں برکت عطا فرما۔"</em></p>


<!-- Inline Ad 300×250 -->

<div style="text-align:center; margin:14px 0;">

<script type="text/javascript">

atOptions = {

'key' : 'afe6ef582da430853c0019befcaa406e',

'format' : 'iframe',

'height' : 250,

'width' : 300,

'params' : {}

};

</script>

<script type="text/javascript" src="//www.highperformanceformat.com/afe6ef582da430853c0019befcaa406e/invoke.js"></script>

</div>


<p>اگلے دن صبح جب وہ بازار نکلا تو راستے میں اس نے ایک ضعیف بزرگ عورت کو دیکھا، ہاتھ میں خالی برتن لیے کھڑی۔ اسامہ کے دل میں رحم جاگا — اس کے پاس کچھ پیسے تھے، لیکن وہ سوچنے لگا کہ اگر یہ رقم اسی گھر کے لیے دے دی تو گھر کا کھانا بن جائے گا۔ پھر اس نے دل کی سچی نیت کے ساتھ وہ چند سکے بزرگہ کو دے دیے اور دعا کی۔</p>


<!-- Native Banner Ad -->

<div style="margin:12px 0;">

<script async="async" data-cfasync="false" src="//pl26605357.effectivegatecpm.com/846cfdca089d25cea78898c76b791521/invoke.js"></script>

<div id="container-846cfdca089d25cea78898c76b791521"></div>

</div>


<p>دوپہر کے بعد وہ مزدوری کے لیے ایک نئے مالک کے پاس گیا۔ مالک نے پہلی نظر میں اسامہ کی مخلصی اور عاجزی دیکھ لی — اور کہا کہ اسے مستقل کام دے دیا جائے گا۔ مگر وہاں نوکری کے ساتھ مالک نے بلاشبہ ایک ننھا سا امتحان بھی دیا: کام کے ساتھ ایمانداری اور محنت دکھائے تو استحکام ملے گا۔</p>


<!-- Sidebar Ad 160×600 (floats right on wide layouts) -->

<div style="float:right; margin:8px 0 8px 12px;">

<script type="text/javascript">

atOptions = {

'key' : '0f65f272295f4e7b43824450de62d9c8',

'format' : 'iframe',

'height' : 600,

'width' : 160,

'params' : {}

};

</script>

<script type="text/javascript" src="//www.highperformanceformat.com/0f65f272295f4e7b43824450de62d9c8/invoke.js"></script>

</div>


<p>چند ماہ کی محنت کے بعد اسامہ کی روزی میں اضافہ ہوا۔ اس نے اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کر دیں، قرضہ کم ہونے لگا، اور دل میں ہمیشہ یہ بات رہی کہ اصل تبدیلی اس کی سچی دعا اور صادقانہ نیت کا نتیجہ تھی۔</p>


<!-- 160×300 Inline Ad -->

<center style="clear:both; margin:12px 0;">

<script type="text/javascript">

atOptions = {

'key' : '4da07e514743f99cfb5157368be529f4',

'format' : 'iframe',

'height' : 300,

'width' : 160,

'params' : {}

};

</script>

<script type="text/javascript" src="//www.highperformanceformat.com/4da07e514743f99cfb5157368be529f4/invoke.js"></script>

</center>


<p>اسامہ اکثر کہتا ہے: "<em>میں جانتا ہوں کہ اللہ کی رضا اور بے لوث نیت ہی سب سے بڑی سرمایہ ہے۔</em>" اس کی کہانی محلے میں امید کی علامت بن گئی — اور اسامہ دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتا ہے کہ سچی نیت اور دعا سے اللہ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔</p>


<!-- Pounder / Popunder Ad -->

<script type='text/javascript' src='//pl26605358.effectivegatecpm.com/c5/9e/48/c59e480f8637035e61f7255a87fae9eb.js'></script>


<p style="font-style:italic; color:#333;">سبق: دعا کے ساتھ نیت کا خالص ہونا ضروری ہے — ایک سچی دعا کئی دروازے کھول دیتی ہے۔</p>


<p style="text-align:center; font-weight:bold; margin-top:18px;">

اگر آپ کو یہ واقعہ پسند آیا تو اسے دوسروں تک پہنچائیں — اور اپنے لوگوں کے لیے دعا کریں۔ <br>اللہ آپ کی نیت اور دعا قبول فرمائے۔ آمین۔

</p>


<!-- Footer Ad 320×50 -->

<center style="margin-top:18px;">

<script type="text/javascript">

atOptions = {

'key' : 'af8c03558c99b81545efef54a8c64ec7',

'format' : 'iframe',

'height' : 50,

'width' : 320,

'params' : {}

};

</script>

<script type="text/javascript" src="//www.highperformanceformat.com/af8c03558c99b81545efef54a8c64ec7/invoke.js"></script>

</center>

Thursday, 13 November 2025

جمعے کی برکت — ایک سچا واقعہ

🌙 جمعے کی برکت — ایک سچا واقعہ

جمعے کی برکت — ایک سچی واقعہ


یہ واقعہ ایک قریبی محلے سے ہے جہاں ایک متوسط الحال آدمی، جن کا نام بلال تھا، رہتے تھے۔ بلال ایک چھوٹی دکان چلاتے تھے مگر پچھلے مہینوں میں کاروبار بالکل سست پڑ گیا تھا۔ قرضے بڑھ رہے تھے اور وہ راتوں کو بہت پریشان رہتے تھے۔

ایک جمعہ کی صبح بلال نے فیصلہ کیا کہ وہ پابندی کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھیں گے اور اللہ سے مدد مانگیں گے۔ مسجد میں خطبہ سن کر، جب نماز ختم ہوئی، بلال نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہاں صرف بیس روپے تھے — اتنے ہی تھے جو گھر کے لیے کافی تھے۔

بلیال نے دل میں سوچا: "یہ پیسے گھر کے لیے ہیں، مگر شاید اللہ کو کسی اور کی ضرورت ہو"۔ وہ مسجد کے باہر کھڑے ایک بوڑھی عورت کو دیکھ کر فوراً قریب گیا اور بیس روپے اس کے ہاتھ میں دے دیے۔ عورت نے آنکھوں میں نم کے ساتھ دعا دی۔

شام کو بلال بازار گیا تو راستے میں ایک صاحب نے اس کا تعارف کروایا اور کہا کہ انہیں ایک سچے اور محنتی بندے کی ضرورت ہے — بلال نے موقع قبول کیا۔ چند دنوں بعد وہ عارضی کام مستقل ملازمت میں تبدیل ہوا، اور آہستہ آہستہ اس کا کاروبار بھی سنبھل گیا۔

بلال خود بیان کرتے ہیں کہ پیسے دینے کے بعد ان کے دل میں ایک گہرا سکون آیا — ایسے لگ رہا تھا جیسے اللہ نے فوراً مدد بھیجی ہو۔ وہ مانتے ہیں کہ جمعے کی نماز، اخلاص اور ضرورت مند کی مدد نے ان کی تقدیر بدل دی۔

سبق: جمعہ کا دن عبادت، دعا اور صدقہ کے لیے بہت پُر برکت وقت ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی قربانی بڑی برکت کا سبب بن جاتی ہے — بس نیت خالص رکھیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

اگر آپ کو یہ واقعہ پسند آیا تو اسے شیئر کریں — اور جمعہ کی نماز میں صدقہ و دعا کو یاد رکھیں۔
اللّٰہ آپ کی نیت اور عمل قبول فرمائے۔ آمین۔

ایک روٹی، جو جنت کا سبب بنی

🌿 ایک روٹی، جو جنت کا سبب بنی



ایک چھوٹے سے محلے میں ایک غریب عورت اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ ان کے پاس ہمیشہ خوراک کم ہوتی، مگر اس عورت کے دل میں ایک بات تھی: “اللہ دیکھ رہا ہے، صبر کرو۔”

ایک دن شام کو ماں کے پاس صرف آدھی روٹی بچی تھی۔ وہ روٹی وہ اپنے بیٹے کے لیے رکھنا چاہتی تھی مگر اچانک دروازے پر ایک مسافر آیا — تھکا ہوا، افسردہ اور بہت بھوکا۔ اس نے بڑھ کر کہا: “اللہ کے نام پر کچھ دے دو، میں کئی دن سے کچھ کھا نہیں سکا۔”

عورت نے ایک نظر اپنے بچے پر ڈالی — اُس کی آنکھوں میں بھوک کی شدت تھی۔ مگر ماں نے دل میں دعا کے ساتھ وہ آدھی روٹی نکالی اور مسافر کو دے دی۔ مسافر نے ہاتھ جوڑ کر دعا دی اور رخصت ہو گیا۔

اُس رات عورت نے خواب میں ایک خوبصورت باغ دیکھا، جہاں ایک فرشتہ آیا اور بولا: “یہ وہ اجر ہے جو تم نے اللہ کے راستے میں دیا۔” عورت جاگ اٹھی — دل میں ایسا سکون تھا کہ وہ پہلے کبھی محسوس نہیں کرچکی تھی۔ اگلے دن سے اُس کے گھر میں اللہ نے روزی بھیجنی شروع کر دی — سب نے دیکھا کہ اللہ کی طرف سے برکت آئی ہے۔

سبق یہ ہے کہ چھوٹی سی نیکی بھی اللہ کی نظر میں بڑی بن جاتی ہے — اگر نیت خالص ہو تو معمولی قربانی بھی بڑا اجر لاتی ہے۔

یہ کہانی سادہ سی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نیکیوں کا اجر کتنی جلدی اور خوبصورتی سے مل سکتا ہے — ہمارے چھوٹے اعمال دوسروں کی زندگی بدل دیتے ہیں۔

اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی تو اس کو شیئر کریں — اور نیک نیتی کے ساتھ عمل کریں۔
اللہ آپ کی نیت اور عمل قبول فرمائے۔ آمین۔

کبوتروں کی اقسام اور ان کی خصوصیات

🕊️ کبوتروں کی اقسام اور ان کی حیرت انگیز خصوصیات

دنیا بھر میں کبوتروں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں — ہر قسم اپنی خصوصیات، خوبصورتی اور عادات کی وجہ سے منفرد ہے۔ ذیل میں ہم ان کی مشہور اقسام اور دلچسپ حقائق آسان زبان میں بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ ان کے بارے میں بہتر جان سکیں۔


1. جنگی کبوتر (Homing Pigeon)

یہ کبوتروں کی وہ قسم ہے جو اپنی رہائش کا راستہ بہت دور سے بھی پہچان لیتا ہے۔ ماضی میں انہیں پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اور جنگوں کے دوران ان کی بدولت کئی اہم پیغامات محفوظ طریقے سے پہنچے۔ ان کی نیویگیشن صلاحیت حیران کن ہوتی ہے — مقامی مقامات، شمسی سمت اور زمین کی مقناطیسی خصوصیات سے وہ راستہ نکال لیتے ہیں۔

2. فینسی کبوتر (Fancy Pigeons)

یہ وہ کبوتَر ہوتے ہیں جنہیں نمائش اور شو کے لیے پالا جاتا ہے۔ ان کی نسلوں میں رنگ، پروں کی ترتیب اور جسمانی ساخت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ چند معروف اقسام:

  • Jacobin: گلے کے اردگرد گھنے اور لمبے پرو ہوں۔
  • Fantail: دم پنکھے کی صورت میں پھیل جاتی ہے، بہت دلکش دکھائی دیتے ہیں۔
  • Modena: چھوٹے مگر اسمارٹ اور شاندار جسم والی نسلیں۔

3. جنگلی کبوتر (Rock Pigeon)

یہ وہ عام کبوتر ہیں جو شہروں میں عمارتوں، چھتوں اور پارکوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ عام طور پر ان کا رنگ خاکی یا راکھ مائل ہوتا ہے۔ ان کے وجود نے پالتو کبوتروں کی نسلوں کو جنم دیا — اسی لیے ہمارے اردگرد بہت سی مختلف شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

4. ریسنگ کبوتر (Racing Pigeon)

ریسنگ کبوتَر تیز رفتار ہوتے ہیں اور خاص طور پر ریس کے لیے پلے اور تربیت کیے جاتے ہیں۔ یہ کلبوں اور مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ بہترین ریسنگ کبوتروں کی قدر لاکھوں میں بھی ہوتی ہے، کیونکہ ان کی رفتار اور مستقل مزاجی سرمایہ کاروں کو پسند آتی ہے۔

5. لکڑی کبوتر (Wood Pigeon)

یہ زیادہ تر جنگلات اور دیہی علاقوں میں ملتے ہیں۔ ان کے پروں کی بناوٹ اور رنگت الگ ہوتی ہے، اور یہ عموماً جھرمٹ بنا کر اڑتے ہیں۔ اگر آپ جنگل میں جائیں تو اکثر ان کی خاص آواز اور سلسلہ وار پرواز دیکھی جا سکتی ہے۔

6. سفید امن کا کبوتر (White Dove)

سفید کبوتر ہمیشہ سے محبت اور امن کی علامت رہے ہیں۔ اکثر تقریبات، شادیوں اور امن کی تقریبات میں انہیں اڑایا جاتا ہے۔ یہ نرم طبیعت کے ہوتے ہیں اور لوگ ان کو قابلِ احترام سمجھتے ہیں۔


دلچسپ حقائق

  • کبوتروں کی یادداشت بہت مضبوط ہوتی ہے — وہ چہروں اور جگہوں کو یاد رکھ سکتے ہیں۔
  • کچھ کبوتَر آئینے میں اپنی عکس کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں — یہ شاندار ذہانت کی نشانی ہے۔
  • کبوتروں کا بدن ایک خاص نیویگیشن سسٹم رکھتا ہے جو انہیں سمت معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
  • پرانے زمانے میں کبوتروں کو پیغام رسانی، ریسنگ اور نمائش کے لیے تربیت دیا جاتا تھا — اور آج بھی یہ مشغلے دنیا بھر میں مقبول ہیں۔

اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا تو شیئر کریں — اور ہمیں بتائیں کہ آپ کا پسندیدہ کبوتر کون سا ہے؟ 🕊️

Wednesday, 12 November 2025

بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر ٹپک رہی تھیں، اور گلی کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ علی بابا جی اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے، چھت کے نیچے ایک پرانا صندوق کھول رہے تھے۔ صندوق میں ایک سے بڑھ کر ایک یادیں چھپی ہوئی تھیں: پرانے خط، بچپن کی تصویریں اور ایک چھوٹا سا کھلونا جو اب رنگ بدل چکا تھا۔

علی جی نے صندوق میں ہاتھ ڈالا تو ایک پرانا لفافہ نکلا۔ لفافے پر نام لکھا تھا، مگر اتنے سالوں میں سیاہی مٹ چکی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے لفافہ کھولا، اور اندر چھپی لکھی عبارت نے اس کی آنکھوں میں نمی پیدا کر دی:

لفافے میں لکھا تھا: "جب تم یہ خط پڑھو گے تو میں وہاں نہیں ہوں، مگر تمہاری یادیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔" علی جی نے کھڑکی سے باہر دیکھا، بارش اب اور بھی زور سے برس رہی تھی، اور ہر بوند جیسے کسی پرانی کہانی کی گواہ تھی۔

اس دن علی جی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پرانے دنوں کی یادیں دوبارہ زندہ کریں گے۔ وہ چھت کے نیچے چھپی ہر چیز کو دیکھتا رہا، اور دل میں خاموش دعا کی: "یہ یادیں ہمیشہ محفوظ رہیں، اور کوئی انہیں نہیں بھلا سکے۔"

وقت گزرتا رہا، بارش رکی، لیکن صندوق کی کہانیاں اور علی جی کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں۔ یہ چھت کے نیچے چھپی یادیں، ایک چھوٹی سی دنیا کی بڑی کہانی بن گئیں۔

اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی تو دوسروں تک پہنچائیں اور اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

وہ خط

💌 سچی کہانی: "وہ خط"

بارش کی ہلکی ہلکی رت میں، بازار کے ایک چھوٹے سے گوشے میں "عالمہ اماں" اپنی چھوٹی سی دکان بند کر رہی تھیں۔ عالمہ اماں نے جوانی میں شوہر اور بیٹا دونوں کھو دیے تھے — مگر وہ روزانہ اپنی دکان کھول کر چھوٹے چھوٹے گلاس اور گھنٹیاں بیچا کرتی تھیں، تاکہ گلی کے بچوں کو خوشی ملے۔

ایک دن شام کے وقت عالمہ اماں نے دکان بند کی اور کونے میں بیٹھی ہوئی ایک چھوٹی سی لکڑی کی ڈبی نکالی — جس میں وہ اپنی یادوں کی چھوٹی چیزیں رکھتی تھیں: بیٹے کی ایک چھوٹی سی گھڑی، شوہر کی تصویر، اور ایک پرانا لفافہ جس پر کبھی دستخط تھی مگر وقت نے وہ مٹایا دیا تھا۔

عالمہ اماں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ وہ لفافہ شاید کسی دن کھلے گا — مگر قسمت نے اور ہی فیصلہ کیا۔ ایک سرد صبح، جب وہ دکان کھولنے نکلی، پایا کہ سامنے والی گلی میں ایک نوجوان مرد، گنجان سیاہ کوٹ پہنے، بیٹھا ہوا ہے اور ہاتھ میں ایک کھردرا لفافہ پکڑے ہے۔

نوجوان نے عالمہ اماں کو لفافہ دکھایا اور کہا، "یہ شاید آپ کے خاندان کا ہو سکتا ہے۔ میں ڈاک کے کام میں تھا — یہ میرے ہاتھ لگا ہوا تھا۔" عالمہ اماں کے ہاتھ کانپنے لگے۔ لفافہ پر بیچ میں ایک چھپی ہوئی تاریخ تھی — جو پندرہ سال پرانی تھی۔

عالمہ اماں نے نفی میں سر ہلایا مگر دل کی دھڑکن تیز تھی۔ لفافہ کھولا تو اندر ایک خط تھا — ہاتھ سے لکھا ہوا، کچھ الفاظ مٹ چکے تھے مگر درمیان کی ایک لائن صاف لکھی تھی: “جب تم یہ خط پڑھو تو میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا، مگر تمہاری مسکان میری دنیا ہوگی۔”

عالمہ اماں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ خط میں لکھا تھا کہ بھیجنے والا کسی حادثے میں گھر نہ پہنچ سکا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ عالمہ اماں زندگی میں آگے بڑھے، مسکرائے اور لوگوں کی خدمت کرتی رہے۔

وہ نوجوان جو لفافہ لے کر آیا تھا بول پڑا، "اماں، میں ایک NGO میں کام کرتا ہوں — ہم ایسے بزرگوں کے لیے پیکیجز اور مدد کا بندوبست کرتے ہیں۔ کیا آپ چاہیں تو میں آپ کی مدد کرا دوں؟" عالمہ اماں نے خاموشی سے نوجوان کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "میرا ایک خواب ہے — بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے رکھ کر وہی مسکان واپس لوں..."

کچھ ہفتوں بعد، اسی محلے میں عالمہ اماں نے چھوٹے چھوٹے رنگین گلاس اور ہنسی بانٹنے والے کھلونے لوگوں کو مفت تقسیم کرنا شروع کیے۔ محلے کے بچے پھر سے ہنسنے لگے۔ عالمہ اماں کے چہرے پر وہی مسکان لوٹ آئی — اور ہر شام وہ اپنے چھوٹے سے الماری میں وہی لفافہ رکھ کر دعا کرتی تھیں۔

اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی تو دعا میں یاد رکھیں — اور دوسروں تک پہنچانے کے لیے شیئر کریں۔