Sunday, 1 March 2026

طوفانوں کے گھیرے میں پاکستان: کیا ہم متحد ہوکر ہی بچ سکتے ہیں؟



آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر طرف سے طوفان سر اٹھا رہے ہیں۔ عالمی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے، نئے اتحاد بن رہے ہیں اور پرانے ٹوٹ رہے ہیں۔ پڑوس میں جاری تنازعات اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کے اثرات ہماری دہلیز تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں، پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے، وہ ہمارا "داخلی اتحاد" ہے۔ جنگ کا میدان اب صرف سرحدیں نہیں رہیں: ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید دور میں جنگ کا تصور بدل چکا ہے۔ اب جنگیں صرف توپوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ دشمن ذہنوں اور نظریات پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم اندر سے کمزور ہو، فرقوں، گروہوں اور سیاسی وابستگیوں میں بٹی ہوئی ہو، تو وہ کسی بھی بیرونی خطرے کے سامنے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہماری سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت نہ اس کا ایٹمی ہتھیار ہے اور نہ ہی اس کی جغرافیائی اہمیت، بلکہ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کے عوام کا "اتحاد" ہے۔ جب ہم سب — پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، کشمیری — ایک قوم بن کر کھڑے ہوتے ہیں، تو ہم دنیا کی کسی بھی طاقت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کیا ہم واقعی خطرے میں ہیں؟ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمارے ازلی دشمن بھی ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایسے میں، دشمن کو موقع دینے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم آپس میں لڑتے رہیں۔ ہماری اندرونی ناچاقی، سیاسی تصادم اور فرقہ وارانہ نفرتیں ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔ وقت کی پکار: اتحاد، اتحاد اور صرف اتحاد آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تمام ذاتی، سیاسی اور مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف پاکستان کا سوچیں۔ ہماری آرمی، ہماری سیکیورٹی فورسز ملک کی حفاظت کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، لیکن انہیں ہماری ہمت اور یکجہتی کی بھی ضرورت ہے۔ آئیے عہد کریں! آج ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم اختلافات کو بھلا کر ایک قوم بنیں گے۔ ہم اپنی یکجہتی کے ذریعے ایک ایسا قلعہ تعمیر کریں گے جسے کوئی دشمن عبور نہ کر سکے گا۔ ہماری یکجہتی ہی پاکستان کی بقا، سلامتی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

0 comments:

Post a Comment