Wednesday, 12 November 2025

بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر ٹپک رہی تھیں، اور گلی کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ علی بابا جی اپنی پرانی لکڑی کی کرسی پر بیٹھے، چھت کے نیچے ایک پرانا صندوق کھول رہے تھے۔ صندوق میں ایک سے بڑھ کر ایک یادیں چھپی ہوئی تھیں: پرانے خط، بچپن کی تصویریں اور ایک چھوٹا سا کھلونا جو اب رنگ بدل چکا تھا۔

علی جی نے صندوق میں ہاتھ ڈالا تو ایک پرانا لفافہ نکلا۔ لفافے پر نام لکھا تھا، مگر اتنے سالوں میں سیاہی مٹ چکی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے لفافہ کھولا، اور اندر چھپی لکھی عبارت نے اس کی آنکھوں میں نمی پیدا کر دی:

لفافے میں لکھا تھا: "جب تم یہ خط پڑھو گے تو میں وہاں نہیں ہوں، مگر تمہاری یادیں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گی۔" علی جی نے کھڑکی سے باہر دیکھا، بارش اب اور بھی زور سے برس رہی تھی، اور ہر بوند جیسے کسی پرانی کہانی کی گواہ تھی۔

اس دن علی جی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پرانے دنوں کی یادیں دوبارہ زندہ کریں گے۔ وہ چھت کے نیچے چھپی ہر چیز کو دیکھتا رہا، اور دل میں خاموش دعا کی: "یہ یادیں ہمیشہ محفوظ رہیں، اور کوئی انہیں نہیں بھلا سکے۔"

وقت گزرتا رہا، بارش رکی، لیکن صندوق کی کہانیاں اور علی جی کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں۔ یہ چھت کے نیچے چھپی یادیں، ایک چھوٹی سی دنیا کی بڑی کہانی بن گئیں۔

اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی تو دوسروں تک پہنچائیں اور اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

0 comments:

Post a Comment