💌 سچی کہانی: "وہ خط"
بارش کی ہلکی ہلکی رت میں، بازار کے ایک چھوٹے سے گوشے میں "عالمہ اماں" اپنی چھوٹی سی دکان بند کر رہی تھیں۔ عالمہ اماں نے جوانی میں شوہر اور بیٹا دونوں کھو دیے تھے — مگر وہ روزانہ اپنی دکان کھول کر چھوٹے چھوٹے گلاس اور گھنٹیاں بیچا کرتی تھیں، تاکہ گلی کے بچوں کو خوشی ملے۔
ایک دن شام کے وقت عالمہ اماں نے دکان بند کی اور کونے میں بیٹھی ہوئی ایک چھوٹی سی لکڑی کی ڈبی نکالی — جس میں وہ اپنی یادوں کی چھوٹی چیزیں رکھتی تھیں: بیٹے کی ایک چھوٹی سی گھڑی، شوہر کی تصویر، اور ایک پرانا لفافہ جس پر کبھی دستخط تھی مگر وقت نے وہ مٹایا دیا تھا۔
عالمہ اماں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ وہ لفافہ شاید کسی دن کھلے گا — مگر قسمت نے اور ہی فیصلہ کیا۔ ایک سرد صبح، جب وہ دکان کھولنے نکلی، پایا کہ سامنے والی گلی میں ایک نوجوان مرد، گنجان سیاہ کوٹ پہنے، بیٹھا ہوا ہے اور ہاتھ میں ایک کھردرا لفافہ پکڑے ہے۔
نوجوان نے عالمہ اماں کو لفافہ دکھایا اور کہا، "یہ شاید آپ کے خاندان کا ہو سکتا ہے۔ میں ڈاک کے کام میں تھا — یہ میرے ہاتھ لگا ہوا تھا۔" عالمہ اماں کے ہاتھ کانپنے لگے۔ لفافہ پر بیچ میں ایک چھپی ہوئی تاریخ تھی — جو پندرہ سال پرانی تھی۔
عالمہ اماں نے نفی میں سر ہلایا مگر دل کی دھڑکن تیز تھی۔ لفافہ کھولا تو اندر ایک خط تھا — ہاتھ سے لکھا ہوا، کچھ الفاظ مٹ چکے تھے مگر درمیان کی ایک لائن صاف لکھی تھی: “جب تم یہ خط پڑھو تو میں تمہارے پاس نہیں ہوں گا، مگر تمہاری مسکان میری دنیا ہوگی۔”
عالمہ اماں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ خط میں لکھا تھا کہ بھیجنے والا کسی حادثے میں گھر نہ پہنچ سکا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ عالمہ اماں زندگی میں آگے بڑھے، مسکرائے اور لوگوں کی خدمت کرتی رہے۔
وہ نوجوان جو لفافہ لے کر آیا تھا بول پڑا، "اماں، میں ایک NGO میں کام کرتا ہوں — ہم ایسے بزرگوں کے لیے پیکیجز اور مدد کا بندوبست کرتے ہیں۔ کیا آپ چاہیں تو میں آپ کی مدد کرا دوں؟" عالمہ اماں نے خاموشی سے نوجوان کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "میرا ایک خواب ہے — بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے رکھ کر وہی مسکان واپس لوں..."
کچھ ہفتوں بعد، اسی محلے میں عالمہ اماں نے چھوٹے چھوٹے رنگین گلاس اور ہنسی بانٹنے والے کھلونے لوگوں کو مفت تقسیم کرنا شروع کیے۔ محلے کے بچے پھر سے ہنسنے لگے۔ عالمہ اماں کے چہرے پر وہی مسکان لوٹ آئی — اور ہر شام وہ اپنے چھوٹے سے الماری میں وہی لفافہ رکھ کر دعا کرتی تھیں۔
اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی تو دعا میں یاد رکھیں — اور دوسروں تک پہنچانے کے لیے شیئر کریں۔







0 comments:
Post a Comment