💔 سچی کہانی: "آخری چائے"
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ سردی اپنی انتہا پر تھی۔ ریلوے اسٹیشن کے ایک کونے میں “نعیم چاچا” اپنی چھوٹی سی چائے کی دکان بند کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ دن بھر لوگوں کو گرم چائے پلا کر تھک چکے تھے، لیکن ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ تھی۔
اسی دوران ایک نوجوان لڑکا اسٹیشن پر آیا۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرہ تھکا ہوا، اور آنکھوں میں نمی۔ نعیم چاچا نے کہا: “بیٹا، چائے پیو گے؟” لڑکے نے آہستہ سے کہا، “پیسے نہیں ہیں چاچا…” نعیم چاچا مسکرا کر بولے، “پیسے نہیں، دعائیں دے دینا۔”
چائے کے ساتھ جیسے اس لڑکے کی آنکھوں میں روشنی لوٹ آئی۔ چائے ختم ہوئی تو اس نے صرف اتنا کہا، “اللہ آپ کو خوش رکھے چاچا، کبھی دوبارہ ملا تو شکریہ ادا کروں گا۔”
دو سال بعد، اسی اسٹیشن پر ایک بڑی گاڑی رکی۔ گاڑی سے وہی لڑکا اترا، لیکن اب وہ سوٹ میں تھا۔ اس نے نعیم چاچا کو ڈھونڈا، لیکن دکان بند تھی۔ پاس کھڑے ریلوے ملازم نے کہا، “چاچا پچھلے ہفتے گزر گئے… آخری دن بھی وہ کسی کو چائے پلا رہے تھے۔”
لڑکا خاموش کھڑا رہا۔ پھر اس نے وہیں ایک نئی چائے کی دکان بنوائی — نام رکھا: “آخری چائے — نعیم چاچا کے نام” ☕
یہ کہانی دل کو چھو جائے تو دعا میں یاد رکھنا 💔






0 comments:
Post a Comment